اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے دورے پر آئے ہوئے آذربائیجان کے نائب وزیر اعظم "شاہین مصطفی اف" کی قیادت میں آذری وفد جس میں آذربائیجان کی نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ بھی شامل ہیں، نے آج بروز اتوار کو "بیژن نامدار زنگنہ" سے ملاقات اور گفتگو کی۔
اس موقع پر زنگنہ نے ان کو آذربائیجان کے نیشنل ڈے پر مبارکباد دیتے ہوئے حالیہ سالوں کے دوران، تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر تبصرہ کیا اور کہا کہ ان تعاون کے فروغ کا اہم موڑ توانائی یعنی گیس، تیل اور بحیرہ کیسپین میں مشترکہ تیل میدان کا فروغ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پابندیوں کی وجہ سے ابھی اس مشترکہ تیل میدان کا نفاذ نہیں کیا گیا ہے لیکن دونوں ملکوں کے حکام کے نقطہ نظر میں یہ جلد آپریشنل ہوجائے گا۔
ایرانی وزیر تیل نے تجارت کے شعبے میں آذربائیجان سے تعلقات کے فروغ می دلچسبی کا اظہار کرلیا۔
اس موقع پر نائب آذری وزیر اعظم نے حالیہ سالوں کے دوران باہمی بڑھتے ہوئے تعلقات کی وجہ کو دونوں ملکوں کے صدور کا سیاسی عزم قرار دے دیا۔
شاہین مصطفی یف نے کہا کہ ہمارے لئے یہ بات بہت اہم ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد، جمہوریہ آذربائیجان اور ایران کے مابین تعلقات فروغ پائے ہیں اور ایران مختلف امور میں ہمارا ایک اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات نے مختلف اور متنوع شعبوں میں نمایاں اور قریبی پیشرفت کی ہے، جو تعمیری بات چیت کے ذریعے ظاہر کی جاسکتی ہے۔
مصطفی یف نے کہا کہ ان تعاون میں سے ایک گیس اور تیل کے شعبوں میں ہے جس میں بہت کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں؛ مشترکہ گیس کے تعاون کی ہماری بھی ایک لمبی تاریخ ہے، اور 2004 کے بعد سے ایران نے خودمختار نخجوان کے گیس کی فراہمی کی ہے، جس کے لئے ہم آپ کے مشکور ہیں۔
واضح رہے کہ جمہوریہ آذربائیجان 2020 کے دوران، بحیرہ کیسپین میں واقع ممالک میں سے ایران کی مصنوعات کی برامدات کی پہلی منزل تھی اور اسی عرصے کے دوران، ایران نے ایک ملین 3 ہزار 87 ٹن مصنوعات کو آذربائیجان میں برآمد کیا ہے جن کی مالیت کی شرح 510 ملین 987 ہزار 242 ڈالر کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲